Zabardasti Parda

 Islam, Urdu  Comments Off
Dec 192011
 

Zabardasti Parda

Zabardasti Parda

Zabardasti Parda

Incoming search terms:

 Posted by at 1:16 am
Dec 142011
 

کراچی میں بنگالی خواتین کی خریدوفروخت کرنے والے درجن سے زائد گروہ سرگرم ہیں اور بنگلہ دیش سے بھولی بھالی لڑکیوں کو بہلا پھسلا کر شہر میں لانے اور انہیں فروخت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ فروخت کیلئے بنگالی لڑکیاں بنگلہ دیش کے 6 شہروں سے لائی جاتی ہیں، ان شہروں میں ڈھاکہ، سلہٹ، اکھالی، رام پور، چٹاگانگ اور قمرو قمرو شامل ہیں۔ ان لڑکیوں کے بڑے ایجنٹ ڈھاکہ، کراچی اور دبئی میں موجود ہیں، جن کے کارندے بنگلہ دیش میں کام کرتے ہیں اور بنگلہ دیش کے علاقوں نواکھائی، سلہٹ، سری منگل، حسبی گنج، لکشمی پور،کوکز بازار سمیت دیگر مقامات سے لڑکیوں کو فروخت کیلئے براستہ بھارت کراچی بھیجتے ہیں۔ بنگالی لڑکیوں کو ممبئی اور دہلی سمیت بھارت کے دیگر شہروں میں مخصوص مکانات میں رکھا جاتا ہے، جہاں سے انہیں ملازمت کا لالچ دے کر کراچی لایا جاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھاکہ بنگلہ دیشی لڑکیوں کو کم عمری میں خرید کر جوان ہونے کے بعد جعلی نکاح کر کے کراچی بھیجا جاتا ہے اور یہاں ان کو بنگالی بستیوں میں رکھا جاتا ہے۔ فروخت کیلئے ان لڑکیوں کو ملک کے دوسرے شہروں کے علاوہ دبئی بھی بھجوایا جاتا ہے۔ کورنگی سیکٹر 34/3 کا رہائشی محمد سلیم بھی ان لڑکیوں کو فروخت کرنے والا ایک ایجنٹ تھا، وہ بظاہر علاقے میں سبزی فروخت کرتا تھا، لیکن حقیقت میں بنگالی لڑکیوں کی خریدوفروخت کے گھنائونے کام میں ملوث تھا۔ اس کے ایجنٹ ڈھاکہ سے مختلف طریقوں سے بھارت کے راستے کراچی لڑکیاں بھجواتے تھے، جن کو سلیم فروخت کرتا تھا۔ اس مذموم دھندے میں سلیم کی بیوی ماجدہ ، بیٹی ثمینہ، ہم زلف محمد قاضی اور ایک عزیز اسلم بھی شامل تھے۔ سلیم کئی برس سے بنگالی لڑکیوں کی خریدو فروخت کاکام کررہا تھا اور اس کے بنگلہ دیش، بھارت اور دبئی میں ایجنٹ موجود تھے۔کراچی لائی جانے والی لڑکیوں کو سلیم 50 ہزار سے2 لاکھ روپے میں سندھ کے مختلف شہروں میں قائم فحاشی کے اڈوں میں فروخت کرتا تھا اور اس کام میں اس کا ہم زلف محمد قاضی پیش پیش تھا۔ سلیم کے کارندے شہر میں قائم مختلف بنگالی بستیوں میں اس کیلئے کام کر رہے تھے۔ موسیٰ کالونی میں عبدالسلام، نورانی بستی میں مرید، مچھرکالونی میں حیدر علی، جبکہ ابراہیم حیدری، کورنگی سوکواٹرز، ارکان آباد، علی اکبر شاہ گوٹھ، گلشن ضیا کالونی اور پاکستان بازار اورنگی ٹائون میں بھی اس کے ایجنٹ موجود تھے، جن سے سلیم سارے معاملات خود ڈیل کرتا تھا۔ سلیم کی بیوی شہر کی بنگالی بستیوں سے بھی لڑکیاں جمع کرتی تھی، بھولی بھالی لڑکیوں کو اچھے گھروں میں رشتے کرانے اور دبئی میں نوکری دلوانے کے بہانے پھنسایا جاتا تھا، جبکہ سلیم کی بیٹی ثمینہ جو تعلیم یافتہ تھی، اس کی ذمہ داری تھی کہ وہ کراچی سے تین چار لڑکیاں لے کر دبئی جاتی تھی، جہاں بڑے بڑے ایجنٹ وہ لڑکیاں خرید لیتے تھے۔ لڑکیوں کی خرید و فروخت کا مذموم کام کرنے والا یہ گروہ نجانے کب تک مزید اپنے دھندے میں مصروف رہتا مگر ان میں آپس میں جھگڑا ہونے سے معاملہ کھل گیا۔ کچھ عرصہ قبل ایک رات محمد سلیم کے گھر میں موجود 16 سالہ بنگالی لڑکی کوہ نور کو اس کا ہم زلف محمد قاضی دھوکے سے لے کر فرار ہوگیا اور سلیم اس کے خلاف کورنگی تھانے پہنچ گیا اور شکایت کی کہ اس کے ہم زلف محمد قاضی نے اس کو لانڈھی تھانے میں جھوٹے مقدمے میں پھنسا یا اور اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیٹی کو نشہ آور دوا پلا کر اغوا کر کے حیدرآباد لے گیا اور پھر اسے ایک وڈیرے کے ہاتھ 2 لاکھ میں فروخت کردیا ہے۔ سلیم نے بیٹی کے اغوا کا مقدمہ درج کراتے وقت پولیس کے سامنے خودکو ایک غریب سبزی فروش اور اغوا ہونے والی لڑکی کوہ نورکو اپنی بیٹی ظاہر کیا۔ اس دوران وہ پولیس سے مسلسل رابطے میں رہا اور چند روز بعد پولیس کو یہ اطلاع دی کہ اس کی بیٹی حیدرآباد میں اس جگہ موجود ہے۔ اس کے بعد وہ پولیس کو خرچہ پانی دے کر اپنے ساتھ حیدرآباد لے گیا۔ حیدرآباد کے علاقے پھلیلی میں اسلام چوک کے قریب ایک فحاشی کے اڈے پر جب سلیم پولیس پارٹی لے کر پہنچا تو وہاں کون نور موجود تھی جسے پولیس نے بازیاب کرالیا، اس دوران پولیس پارٹی نے وہاں کئی ایسی لڑکیاں دیکھیں جو کراچی کی مختلف بنگالی بستیوں سے فروخت کی گئی تھیں۔ پولیس مغویہ کو لے کر کراچی آگئی اور بعد میں ایک بنگالی بستی میں چھاپہ مارکر ملزم محمد قاضی کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کو دوران تفتیش ملزم محمد قاضی نے بتایاکہ اس کا اور سلیم کا تعلق، بنگالی لڑکیوں کی خریدوفروخت کے کاروبار سے ہے اور سلیم جس لڑکی کو اپنی بیٹی ظاہرکر رہا ہے، وہ اسے ڈھاکہ سے 10 ہزار ٹکا میں دو سال قبل خریدکرکراچی لایا تھا اور یہ لڑکی سلیم نے اسے 60 ہزار روپے میں فروخت کی تھی۔ ملزم قاضی نے سندھ کے ایک وڈیرے سے کوہ نور کا 2 لاکھ روپے میں سودا کیا تو سلیم نے بھی اپنا معاوضہ بڑھانے کو کہا اور مزید رقم نہ دینے کی صورت میں لڑکی کو روک لیا، جس پر سلیم اور قاضی کے درمیان جھگڑا ہو گیا اور قاضی موقع ملتے ہی کوہ نور کو لے کر بھاگ گیا۔ پولیس کو مغویہ کوہ نور نے جو بیان دیا، اس کے مطابق، اسے اس کا رشتے دار محمد قاضی حیدرآباد لے گیا تھا، جہاں اس کو فحاشی کے اڈے پر فروخت کیا گیا اور اسے جس شخص کے حوالے محمد قاضی نے کیا، وہ میرصاحب کے نام سے مشہور ہے۔ اس کے فحاشی کے اڈے پر زیادہ تر بنگالی لڑکیاں موجود ہیں۔ پولیس نے ساری حقیقت جاننے کے باوجود کوہ نورکو دوبارہ سلیم کے حوالے کردیا، جبکہ کچھ دنوں بعد سلیم نے کوہ نورکو دوبارہ مچھر کالونی کے رہائشی اپنے ایک کارندے حیات کے ذریعے محراب پور کے ایک وڈیرے کو2 لاکھ روپے میں فروخت کردیا۔ ’’امت‘‘ کو معلوم ہوا کہ کورنگی پولیس اس گروہ کے بارے میں جاننے کے باوجود پردہ پوشی کرتی رہی اور بعدازاں سلیم، اس کی بیوی ماجدہ، بیٹی ثمنیہ اور ایک رشتہ دار اسلم سمیت دیگر کارندے مذکورہ علاقے سے اپنا گھر فروخت کرکے نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئے۔ ’’امت‘‘ کو ایک پولیس آفیسر نے بتایاکہ کیس ابھی چل رہا ہے، محمد قاضی جیل میں ہے اور باقی تمام افراد فرار ہو چکے ہیں، جبکہ سلیم کے خاص کارندے حیات کے خلاف بنگالی لڑکیوں کی خریدرفروخت کے الزام میں پریڈی، ابراہیم حیدری اور زمان ٹائون تھانے میں کئی مقدمات درج ہیں۔

’’امت‘‘ کو تحقیقات کے دوران معلوم ہواکہ کراچی میں بنگالی لڑکیوں کی خرید وفروخت کے حوالے سے نورالسلام بھی کافی سرگرم ہے، جس کے شہر میں 15 سے زائد کارندے کام کر رہے ہیں جو ایک جانب کراچی کی بنگالی بستیوں سے ملازمت یا شادی کے چکر میں لڑکیوں کو پھنساتے ہیں تو دوسری جانب اس کے کارندے بنگلہ دیش سے غریب گھرانوں کی لڑکیوں کو ان کے بھائی باپ کو رقم دے کر خرید لیتے ہیں اور براستہ بھارت انہیں کراچی بھیجا جاتا ہے۔ ’’امت‘‘ کو معلوم ہواہے کہ نورالاسلام کا خاص ایجنٹ عبدالسلام اور اس کی بیوی شہزادی کراچی لائی جانے والی لڑکیوں کو اندرون سندھ میں ڈھائی سے تین لاکھ روپے میں فروخت کرتی ہیں، جبکہ اندرون سندھ کے شہروں حیدرآباد، ٹنڈوالہ یار، ٹنڈوآدم، نوشہرو فیروز اور میرپورخاص سے لوگ، کراچی میں بنگالی لڑکیاں فروخت کرنے والے افراد کے پاس آتے ہیں۔ ’’امت‘‘ کو ذرائع نے بتایا کہ کراچی سے لڑکیاں لے جانے والے جعلی نکاح نامے بھی بنواتے ہیں اور اس حوالے سے بنگالی بستیوں میں بعض افراد کافی سرگرم ہیں، جو پانچ سو سے ہزار روپے میں جعلی نکاح نامہ بنا دیتے ہیں۔ ’’امت‘‘ کی تحقیقات کے مطابق 2004ء سے قبل کراچی میں بنگالی عورتیں بغیر نکاح کے فروخت ہوتی تھیں، لیکن 2004ء کے بعد کچھ سختی ہوئی اور اب ایجنٹ بنگالی لڑکیوں کی فروخت سے قبل، ان کا جعلی نکاح کرا دیتے ہیں۔ یوں یہ ایجنٹ خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔ اس حوالے سے’’ امت‘‘ کو ذرائع نے بتایاکہ بعض ایجنٹس کے پاس نکاح نامے کے فارم موجود ہوتے ہیں۔ ان سادہ فارمز پر نکاح خواں کی مہر اور دستخط کے علاوہ گواہوں کے نام اور دستخط بھی موجود ہوتے ہیں، جبکہ دولہا اور دلہن کے نام کا خانہ خالی ہوتا ہے۔ ذرائع کا کہنا تھاکہ جعلی نکاح نامے کے عوض لڑکیوں کے خریداروں سے5 سے 7 ہزار روپے اضافی لیے جاتے ہیں۔ ’’امت‘‘ کو ذرائع نے بتایاکہ کراچی میں واقع بنگالی بستیوں میں عورتوں کی خریدوفروخت کرنے والوں سے لوگ سودا کرتے کتراتے ہیں، کیونکہ یہاں پر ایک لڑکی کے تین سے چار لاکھ روپے طلب کیے جاتے ہیں، جبکہ بنگلہ دیش سے ایک لڑکی 80 سے 90 ہزار روپے میں مل جاتی ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش سے لڑکیاں دو مختلف طریقوں سے کراچی لائی جاتی ہیں، جن میں ایک طریقہ یہ ہوتا ہے کہ بنگلہ دیش میں لڑکی کو خریدنے کے بعد اس کا پاسپورٹ بنوایا جاتا ہے اور وزٹ ویزا کے ذریعے اسے کراچی لایا جاتا ہے، جس کے بعد اسے فروخت کردیا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ بنگالی عورتوں کے ایجنٹ جب 15 سے 20 لڑکیاں بنگلہ دیش سے خرید کر پاکستان لانا چاہتے ہیں تو اس مقصدکیلئے وہ پہلے ان بنگالی لڑکیوں کو بھارت میں داخل کراتے ہیں، جہاں ان کے سب ایجنٹ ہوتے ہیں جو، ان لڑکیوں کو غیر قانونی طریقے سے کراچی بھیجتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش سے جہاز کے ذریعے آنے والی زیادہ تر لڑکیاں دبئی چلی جاتی ہیں ، تاہم اگر ایجنٹ کو اچھا گاہک مل جائے تو انہیں کراچی میں ہی فروخت کردیا جاتا ہے۔ ’’امت‘‘ کو معلوم ہوا ہے کہ کراچی کی بنگالی بستیوں میں موجود بنگالی لڑکیوں کی خریدوفروخت کرنے والے گروہ کے کارندے پکڑے بھی جاتے ہیں، تاہم یہ پولیس سے بھاری مک مکا کرکے چھوٹ جاتے ہیں یا رہائی کے بعد دوبارہ نیٹ ورک جوائن کر لیتے ہیں، جبکہ بعض پولیس افسران ان کی سرپرستی بھی کرتے ہیں۔ سی پی ایل سی کے چیف احمد چنائے کا کہنا تھاکہ بنگالی خواتین کی خرید و فروخت کے گھنائونے کاروبار کے حوالے سے پولیس کام کرتی رہتی ہے، تاہم سی پی ایل سی نے ایسے افراد کے نیٹ ورک پرکبھی کام نہیں کیا۔ کورنگی تھانے کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر سعید غنی کا کہنا تھاکہ بنگالی خواتین کیخریدوفروخت میں ملوث افراد کراچی کی بنگالی بستیوں میں رہائش پذیر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہچند ماہ قبل کورنگی کے سبزی فروش سلیم نے تھانے میں مقدمہ درج کرایا تھا کہ اس کا رشتے دار محمد قاضی اس کی 16 سالہ بیٹی کو اغوا کرکے لے گیا ہے۔ اس واقعے کا مقدمہ نمبر 85/2010 زیردفعہ 365 /B کے تحت درج کیا گیا اور پھر معلوم ہوا کہ مغویہ حیدرآباد کے علاقے پھلیلی میں قائم فحاشی کے اڈے پر موجود ہے۔ جب وہ پولیس پارٹی لے کر وہاں گئے تو مغویہ کو بازیاب کرالیا اور یہ بھی دیکھاکہ اس فحاشی کے اڈے میں کراچی اور دوسرے شہروں کی کئی لڑکیاں موجود تھیں۔ پولیس افسر نے بتایا کہ شروع میں انہیں علم نہیں تھاکہ اصل معاملہ کیا ہے اور جب واقعے میں ملوث ملزم محمد قاضی کو گرفتار کیا گیا تو اصل حقائق سامنے آئے کہ مغویہ کوہ نور کو فروخت کیا گیا ہے اور محمد قاضی نے اس لڑکی کو سلیم سے60 ہزار میں خریدا تھا۔اب وہ سلیم کو بھی تلاش کررہے ہیں مگر وہ فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ہے۔

بشکریہ امّت

Incoming search terms:

 Posted by at 2:35 am