Feb 232012
 

bloach

یار یہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے۔۔۔؟

کیوں کیا ہوا۔۔۔؟

یار سنا ہے کہ وہاں بڑا ظلم ہو رہا ہے۔۔۔ کون کر رہا ہے یہ ظلم۔۔۔؟

کونسا ظلم ہو رہا ہے میرے بھائی۔۔۔ سب ٹھیک ہے وہاں۔۔۔

اچھا۔۔۔ یار اخبار میں آجکل بہت چھپ رہا ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی بندے غائب کر رہی ہے۔۔۔ تشدد کرکے کسی اجاڑ میں لاش پھینک دیتی ہے۔۔۔ اور حد تو یہ کہ لاشیں مسخ بھی کر دیتی ہے۔۔۔

تمہیں کس نے کہا کہ فوج اور آئی ایس آئی اس میں ملوث ہے۔۔۔ ؟

یار ہر بندہ یہی کہہ رہا ہے ۔۔۔

نہیں بھائی۔۔ بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔۔۔ اگر بھارت، اسرائیل اور امریکہ بلوچستان میں ہاتھ نا ڈالیں تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔۔۔ فوج تو عوام کی حفاظت کر رہی ہے۔۔۔ یہ ممالک نہیں چاہتے کہ پاکستان میں امن ہو۔۔۔ اس لیے ان کے ایجنٹ قتل و غارت اور دہشت گردی کر رہے ہیں ۔۔۔

تو پھر ان دشمن ممالک کی دہشت گردی اورغیر قانونی مداخلت روکنے کے لیے ہماری فوج اور حکومت کیا کر رہی ہے۔۔۔

یار۔۔۔ بہت سے دہشت گرد پکڑے ہیں فوج نے۔۔۔ ان سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔۔۔

ہممم۔۔۔ تو یہ سارے دہشت گرد جو پکڑے گئے ہیں۔۔۔ وہ بھارئی، اسرائیلی اور امریکی قومیت رکھتے ہیں۔۔۔۔!!!

نہیں یار۔۔۔ وہ بلوچی ہی ہیں۔۔۔ جو ان ممالک سے پیسے لے کر ان کے لیے کام کر رہے ہیں۔۔۔ ان کے لیے جاسوسی کرتے ہیں۔۔۔ قتل کرتے ہیں۔۔۔ اور نیا بلوچی ملک بنانے کے لیے ان ممالک سے پیسہ لیتے ہیں۔۔۔

تو کیا آج تک کوئی ثبوت ملا ۔۔۔ کسی سے کوئی غیر قانونی کرنسی ملی، کوئی نقشے ، کوئی اسلحہ۔۔۔؟

ہاں ملا نا۔۔۔ کئی بار ملا۔۔۔

تو کیا جتنے بندے پکڑے ہیں فوج نے وہ سارے کے سارے دہشت گرد ہیں۔۔۔؟

یار سارے نا بھی ہوئے تو کچھ تو ہونگے ہی نا۔۔۔

تو وہ جو پکڑے گئے اور تشدد کر کے مار دیے گئے۔۔۔ وہ دہشت گرد نا ہوئے تو۔۔۔؟؟؟؟ ان کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ان کے باپ کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ان کے بیٹوں کا کیا قصور ہوا۔۔۔ان کے خاندان کا کیا قصور ہوا۔۔۔ ؟ کیا اب وہ اس ناانصافی کے خلاف آواز نہیں اٹھائیں گے۔۔۔ اور کیا ان کی آواز کو دہشت گردی سمجھ کر پھر سے نہیں دبا دیا جائے گا۔۔۔ کیا ایک معصوم اور مظلوم شخص کا بیٹا اس ظلم کا بدلہ لینے نہیں اٹھے گا۔۔۔ اور کیا وہ دہشت گرد نہیں بن جائے گا۔۔۔؟؟؟

یار فوج تو اپنی ہے۔۔۔ جو کر رہی ہے ملک کی بہتری کے لیے کر رہی ہے۔۔۔ اب غلطیاں تو سب سے ہو ہی جاتی ہیں۔۔۔

لیکن کیا یہ غلطیاں اتنی بھیانک نہیں۔۔۔ جو نفرتیں پھیلا رہی ہیں۔۔۔ جو قاتل کا ساتھ دے رہی ہیں۔۔۔ یہی تو ہمارے دشمن ممالک چاہتے ہیں۔۔۔ کیا اب ہماری عوام ہماری فوج پر بھروسہ کر سکتی ہے۔۔۔ اس فوج کا ساتھ دے سکتی ہے جو اپنی ہی عوام کے قتلِ عام میں ملوث ہے۔۔۔ وہ لوگ جو ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے الزام میں دھر لیے جاتے ہیں۔۔۔ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں۔۔۔ حق آواز بلند کرنے کی پاداش میں تشدد سہتے ہیں۔۔۔ لیکن جھکتے نہیں اور قتل کر دیے جاتے ہیں۔۔۔ کیا ان کا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ نا انصافی کی داستانیں دنیا تک پہنچا سکیں۔۔۔ اور اپنی حکومت اور فوج کی بےمروتی اور بے وفائی دیکھتے ہوئے، مایوس ہو کر اپنے لیے ایک الگ ملک کا مطالبہ کر سکیں۔۔۔ کیا یہ بھی غلط ہے۔۔۔؟

یار تم تو غداروں والی باتیں کر رہے ہو۔۔۔ یہ کیسا ہو سکتا ہے کہ بلوچستان کو الگ کر دیں۔۔۔ وہ ہمارا صوبہ ہے۔۔۔ ہمیں محبت ہے اس صوبے سے۔۔۔

اچھا۔۔۔ میں غدار ہی ٹھرا۔۔۔ مارتے رہو معصوموں کو۔۔۔ بناتے رہو مزید دہشت گرد۔۔۔ لیتے رہو بد دعائیں۔۔۔ اس ملک کا اللہ ہی حافظ۔۔۔
————————–———————-

خبردار!
بلوچستان کو بچانے کے لیے اس صوبے سے محبت کی جگہ اس صوبے کی عوام سے محبت کی جاے تو زیادہ مناسب ہو گا،

Incoming search terms:

 Posted by at 8:46 am
Feb 162012
 

http://bzupages.com/attachment.php?attachmentid=28989&stc=1&d=1329387710

کراچی کے شہری جو سبزی کھارہے ہیں خاص طور پر جو سبزی ملیر کے علاقے میں کاشت کی جارہی ہے اس کی کثیر تعداد زہریلے اور گٹر کے پانی سے کاشت کی جارہی ہے جو مہلک بیماریوں کا ایک بڑا سبب ہے،ایسی سبزیوں میں کثافت کی غیر معمولی مقدار ہوتی ہے اور سبزی کااستعمال کرنے والا ”Carcinogenic”نامی بیماری کا شکارہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ سبزی گردے،جگرکینسر ،ہپا ٹائٹس،گیسٹرو سمیت پیٹ کے امراض،اعصابی بیماریوں سمیت دماغی کارکردگی کو شدید متاثر کرنے کا سبب بن سکتی ہے ۔یہ ایک انتہائی فکر انگیز اور خطرناک بات ہے کیونکہ ان سبزیوں میں وہ اجزاء شامل ہیں جو انسان کی صحت کیلئے خطرناک ہوسکتے ہیں اور کینسرکے تناسب میں بھیانک اضافے کا سبب بن رہا ہے ۔
جیوکے پروگرام”ہم عوام“ کیلئے بنائی جانے والی تحقیقاتی رپورٹ میں سامنے آنے والی تحقیق کے مطابق ملیر کے ایک علاقے میں سبزی کاشت کرنے کیلئے گٹر کی لائنوں کو توڑا گیا ، گٹر سے بہتا ہوا فضلہ براہ راست سبزیوں کی کاشت کی جگہ پر پہنچایا گیا جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ایسا پانی بھی استعمال کیا جا رہا ہے جو چمڑے کے کارخانوں سے نکلتا ہے اس پانی میں بڑی مقدار دھات کی بھی شامل ہوتی ہے۔
یہاں اگائی جانے والی سبزیوں جن میں آلو،ٹماٹر،بیگن،مولی،پھول گوبھی،لیموں،کریلے،چقندر،مرچ کھیرے اور دیگر سبزیاں شامل ہیں میں سیسہ،آرسینک اور کیڈمیم کی مقدار خطرناک حد تک موجود ہے۔اعداو شمار کے مطابق یہاں اگائی جانے والی پھول گوبھی میں سیسہ کی مقدار معمول کی مقدار4.1ngسے41گنا زیادہ ہے،آرسینک کی مقدارgجو/0.03ngہونی چاہیئے لیکن یہاں کی پھول گوبھی میں یہ مقدار0.24ng ہے جبکہ کیڈمیم کی مقدارg/0.05ngتک بے ضرر ہوتی ہے لیکن یہاں کی سبزی میں پائی جانے والی یہ مقدارg/0.0372ng پائی گئی ہے۔اسی طرح لیموں میں سیسہ کی مقدار2.1ngکے بجائے21گنا زیادہ ہے جبکہ کیڈمیم کی مقدار0.16ہے۔چقندر میں سیسہ کی مقدار46گنا زیادہ ہے،کیڈمیم کی مقدار0.69گنا زیادہ ہے۔کھیرے میں سیسہ کی مقدار 41گنا،آرسینک کی مقدار0.64گنا اورکیڈمیم کی مقدار0.39گنا زیادہ ہے۔کریلے میں سیسہ کی مقدار48گنا زیادہ ہے،مرچ میں سیسہ کی مقدار 22گنازیادہ پائی گئی جو پاکستان کی زرعی تحقیقاتی کونسل کی جانب سے معین کی گئی مقدارسے کہیں زیادہ ہے اور یہ ہی مقدار استعمال کرنے والے کو خطر ناک اور مہلک بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے ۔
اس پانی سے ہر سیزن کی سبزیاں کاشت کی جاتی ہیں اور مقامی مارکیٹ کے ساتھ مرکزی سبزی منڈی میں بھی فروخت ہوتی ہے جس کے بعد یہ افسوسناک صورتحال پیدا ہوتی ہے کہ ہم پہچان ہی نہیں سکتے کہ صاف پانی کی سبزی کونسی ہے اور گندے و آلودہ پانی کی زہرآلودہ سبزی کون سی ہے جو در اصل تشویش ناک صورت حال ہے ۔ گندے اور زہریلے پانی سے سبزیوں کی کاشت مجرمانہ غفلت ہے، اس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں۔ ایسی صورت حال کی روک تھا کے لئے قانون تو موجود ہے لیکن جب تک قانون پر مکمل طورپر مخلصانہ اور ایماندارانہ طور پر عملدرآمد کو یقینی نہیں بنایا جاتا اس وقت تک اس چیز کا سدباب نہیں کیا جاسکتا۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سبزیوں سمیت دیگر کاشت کری کے لئے صاف پانی مہیا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

Incoming search terms:

 Posted by at 3:20 pm