گرلز کالج کی ایک لیکچر ر کی فون پر لڑکیوں کے بگڑ جانے کی کہانی
میں ایک گورنمنٹ گرلز کالج میں لیکچرار ہوں۔ میرے کالج میں موبائل فون لانے پر پابندی ہے، میری فقط تین سالہ ملازمت میں یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ یہ ایک معمول ہے۔ میرے اپنے تعلیمی دور کو بیتے زیادہ عرصہ نہیں ہوا، مگر نوجوانوں کی روز بہ روز بگڑتی حالت کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ جیسے میرے طالب علمی کے زمانے کو صدیاں بیت گئی ہیں۔ میں یہ نہیں کہتی کہ میرے دور میں ماحول سو فی صد پاکیزہ تھا، تمام ہی طالبات کا چال چلن مثالی تھا، مگر لڑکیوں کو یونیفارم میں آنا اور کالج کے بجائے ادھر ادھر نکل جانا، کالج دورانیے میں بھی کونوں کھدروں میں چھپ کر فون پر گفت وشنید کرنے کا تناسب روزبہ روز انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پہلے کالج کے چار سیکشن میں سے کسی ایک سیکشن کی لڑکی غلط حرکات میں ملوث پائی جاتی تھی، وہ بھی سال دو سال میں، مگر آج ہر کلاس ہر سیکشن میں ایسے واقعات ہر پندرہ بیس روز میں سامنے آجاتے ہیں۔
”مس باتھ روم میں ایک لڑکی موبائل پر بات کررہی ہے۔“ میرے کالج میں موبائل فون لانے پر پابندی ہے، لہذا جیسے ہی چند طالبات نے مجھے یہ اطلاع دی، میں بڑی سرعت سے جائے وقوع پر پہنچی۔ ایک سیدھی سادی سی بچی تولیے سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی باتھ روم سے باہر نکلی۔
”موبائل نکالیے“ مجھے اس پر شک نہیں تھا، وہ تو اسے باتھ روم سے باہر آتے دیکھ کر ایسے ہی پوچھ لیا تھا۔ ”میرے پاس نہیں مس میرے پاس نہیں ہے موبائل“ چہرے پر بلا کی معصومیت تھی۔ اس کے معصوم چہرے سے نگاہ ہٹی اور براہ راست کالج مونوگرام والی جیب پر پڑگئی۔ ”یہ کیا ہے“ اگلے ہی لمحے چپس کا پیکٹ میرے ہاتھ میںتھا، جس کے اندر حرکت ہورہی تھی۔ ”میں نے استعمال نہیں کیا۔“ اس نے میرے ہاتھ سے چپس کے پیکٹ میں لپٹا ہوا موبائل فون جھپٹنا چاہا۔
”اول تو کالج میں موبائل فون لانے کی اجازت نہیں، پھر…. “ میری بات مکمل ہونے سے قبل اس نے کہا ”مس! کیا بیگ میں رکھتی، چوری نہ ہوجاتا؟“ ”کل پرنسپل سے لے لینا، آج تو وہ میٹنگ میں گئی ہوئی ہیں۔“ میں نے اتنا کہا اور اگلا قدم بڑھانا چاہا جو اس نے بڑھنے نہیں دیا۔ ”پلیز…. میرا موبائل دے دیجئے۔“ وہ برے طریقے سے جھپٹی۔ ”میں نے کہا ناں، کل والدین کو بھیج دینا، مل جائے گا۔“ اسی وقت موبائل فون پر کال آرہی تھی۔
”نہیں مجھے ابھی چاہیے، اسی وقت“ اس کا انداز نہایت جارحانہ اور جاہلانہ ہوگیا تھا۔ مجھ پر حملہ کرنے کی لمحے بھر کی دیر تھی کہ سینئر پروفیسر نے آکر اسے ڈانٹا، مگر وہ قابو میں آنے والوں میں سے نہ تھی۔ حتیٰ کہ کالج کی چھٹی ہوگئی اور وہ تڑپ تڑپ کر روتی رہی۔ موبائل فون پوشیدہ مقام پر رکھنے سے قبل لاتعداد آنے والے ایس ایم ایس چیک کیے گئے تو معلوم ہوا آگ دوسری جانب بھی برابر لگی ہوئی تھی۔ ایک لڑکا ایس ایم ایس کے جواب نہ ملنے پر بے قرار تھا۔
اگلے دن نہ وہ بچی آئی نہ کوئی موبائل فون لینے، لیکن اس کے گھر سے کوئی اس کا فون سیٹ لینے آتا بھی تو کیا ہوتا۔ ہم جتنے بھی اس کے ایس ایم ایس پڑھو ادیتے ماں باپ کو ٹیچرز ہی کو برا بھلا کہنے پر اکتفا کرنا تھا کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ عموماً مائیں آتی ہیں تو ٹیچرز کو دقیانوسی اور اپنی بیٹی کو کھلا ذہن رکھنے والی قرار دیتی ہیں اور اکثر دوبارہ جب ملاقات کاشرف بخشتی ہیں تو بیٹی کسی کے ساتھ فرار ہو چکی ہوتی ہے اور اس آس پر آتی ہیں کہ شاید بھولے بھٹکے کالج آجائے کسی کام سے، مگر اس وقت تک پانی سر سے اونچا ہوچکا ہوتا ہے اور ان کی آس، آس ہی رہ جاتی ہے۔ کچھ والدین تو بے عزتی کے خوف سے خاموش ہو جاتے ہیں کہ ”اب کیا ہووت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت“
میں اس کا ذمے دارنہ میڈیا کو گردانتی ہوں اور نہ ہی موبائل فون کو، میں اس بگڑتی ہوئی صورت حال کی ذمے داری برملا والدین پر ڈالتی ہوں۔ انتہائی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والی طالبات جن کے لاغر وجود چیخ چیخ کر باور کروارہے ہوتے ہیں کہ انہیں کئی روز سے پیٹ بھر کر روٹی نصیب نہیںہوئی ہے، فیس جمع کروانے کے لیے مالی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، لیکن ان کے پاس موجود موبائل سیٹ قابل دید ہوتے ہیں۔ یہ سیٹ کہاں سے آیا، اگر آبھی گیا تو بیلنس کے لیے پیسے کہاں سے آرہے ہیں، یہ نت نئے نام کی دوستیاں کہاں سے ہو گئیں، موبائل فون سائلنٹ پر کیوں رکھا جانے لگا۔ وہ بچی جو رات کو کسی کمرے میں اکیلے سونے سے ڈرتی تھی، موبائل سیٹ آنے کے بعد اتنی بہادر کیسے ہوگئی۔ اسے فون سرہانے رکھے بغیر نیند کیوں نہیں آتی۔ یہ سوالات ماو ں کے اذہان میں کیوں نہیں کلبلاتے۔
یہ صرف کالج طالبات ہی کی بات نہیں ہے، بلکہ اس کا شکار تمام نوجوان نسل ہے۔ لڑکے، لڑکیاں سب ہی اس بلاکا شکار ہیں۔ آپ کو چنگ سینٹرز کا دورہ کریں، وہاں مزید کم عمر اسکول کے بچے ہیں۔ اندر بچیوں کی کلاس ختم، باہر لڑکے ایس ایم ایس پڑھ رہے ہیں۔ ”میں آرہی ہوں۔“ دو گھنٹے کی کوچنگ کلاس اکثر چار گھنٹے پر محیط ہو جاتی ہے۔ مائیں بچیوں کی زبانی سن کر مطمئن ہوجاتی ہیں۔ بلا شبہ اکثر سچ بھی ہوتا ہے، مگر ماو ں کو از خود تصدیق کرنی چاہیے۔
بچیوں کو انہتائی قیمتی تحائف مل رہے ہوتے ہیں۔ مائیں بہ آسامی بچیوں کے جھانسے میں آجاتی ہیں۔ یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتی کہ یہ کون سی سہیلی ہے۔ اگر بچی انجانا نام لیتی ہے تو اس کی تفتیش کیوں نہیں کی جاتی، مائیں کیوں نہیں سوچتیں کہ بیٹی کی نئی دوست جس کا جمعہ جمعہ آٹھ دن سے نام سن رہی ہیں، بھلا وہ کیوں اتنے قیمتی تحائف دے گی۔ بچی کو کیوں اچانک ہی سجنے سنور نے کا شوق چڑایا۔ کیوں وہ گھر سے سنور کر نکلنے لگی؟ ماو ¿ں کوکوئی پروا ہی نہیں ہوتی۔ خود محلے کی تانک جھانک میںاس قدر مگن رہتی ہیں کہ عزت کے محل میں دراڑیں پڑتی جارہی ہیں۔ انہیں احساس ہی نہیں ہوتا، البتہ محل ڈھے جانے کے بعد واویلا مچاتی ہیں۔
میری ماوں سے التجا ہے خدارا اپنی بچیوں پر توجہ دیں۔ یہ نازک کلیاں ہیں، ان کی اچھی آبیاری کریں گی تو یہ آپ کے گلشن کی رونق ہیں، ورنہ مسلی، مرجھائی کلیاں گلشن کا حسن ماند کردیتی ہیں۔ یہ یادرکھیں
جس شاں سے کوئی مقتل میں گیا ، وہ شان سلامت رہتی ہے
اس جاں کی تو کوئی بات نہیں ، یہ جان تو آنی جانی ہے۔۔۔۔!
عمر مختار (عربی: عمر المختار) لیبیا پر اطالوی قبضے کے خلاف تحریک مزاحمت کے معروف رہنما تھے۔ وہ 1862ء میں جنزور نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 1912ء میں لیبیا پر اٹلی کے قبضے کے خلاف اگلے 20 سال تک تحریک مزاحمت کی قیادت کی۔
اطالوی حملہ
اکتوبر 1911ء میں اٹلی کے بحری جہاز لیبیا کے ساحلوں پر پہنچے۔ اطالوی بیڑے کے سربراہ فارافیلی نے مطالبہ کیا کہ لیبیا ہتھیار ڈال دے بصورت دیگر شہر تباہ کردیا جائے گا۔ حالانکہ لیبیائی باشندوں نے شہر خالی کردیا لیکن اٹلی نے ہر صورت حملہ کرنا تھا اور انہوں نے تین دن تک طرابلس پر بمباری کی اور اس پر قبضہ کرلیا۔ یہیں سے اطالوی قابضوں اور عمر مختیار کی زیر قیادت لیبیائی فوجوں کے درمیان جنگوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
گوریلا جنگ
عمر مختار جو معلم قرآن تھے صحرائی علاقوں سے بخوبی واقف تھے اور وہاں لڑنے کی حکمت عملیوں کو بھی خوب سمجھتے تھے۔ انہوں نے علاقائی جغرافیہ کے بارے میں اپنی معلومات کا اطالوی فوجوں کے خلاف بھرپور استعمال کیا۔ وہ اکثر و بیشتر چھوٹی ٹولیوں میں اطالویوں پر حملے کرتے اور پھر صحرائی علاقے میں غائب ہوجاتے۔ ان کی افواج چوکیوں، فوجی قافلوں کو نشانہ بناتی اور رسد اور مواصلات کی گزرگاہوں کو کاٹتی۔
عقوبت گاہیں
عمر مختار کی زیر قیادت مزاحمتی تحریک کو کمزور کرنے کے لئے اطالویوں نے نئی چال چلی اور مردوں، عورتوں اور بچوں کو عقوبت گاہوں میں بند کردیا۔ ان عقوبت گاہوں کا مقصد یہ تھا کہ مزید لیبیائی باشندوں کو عمر مختار کی مزاحمتی تحریک میں شامل ہونے سے روکا جائے۔ ان کیمپوں میں ایک لاکھ 25 ہزار باشندے قید تھے جن میں سے دو تہائی شہید ہوگئے۔
اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو قید کرنے کے باوجود عمر مختار کی تحریک رکی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے ملک اور عوام کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد جاری رکھی۔
گرفتاری و شہادت
عمر مختار کی 20 سالہ جدوجہد اس وقت خاتمے کو پہنچی جب وہ ایک جنگ میں زخمی ہوکر اطالویوں کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔
اس وقت ان کی عمر 70 سال سے زیادہ تھی اور اس کے باوجود انہیں بھاری زنجیروں سے باندھا گیا اور پیروں میں بیڑیاں ڈال دی گئیں۔ ان پر تشدد کرنے والے فوجیوں نے بعد ازاں بتایا کہ جب انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا یا تفتیش کی جاتی تو وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر قرآن مجید کی آیتیں تلاوت کرتے۔
ان پر اٹلی کی قائم کردہ ایک فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور سزائے موت سنادی گئی۔ تاریخ دان اور دانشور ان پر عائد مقدمے اور عدالت کی غیر جانبداری کو شکوک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان سے جب آخری خواہش پوچھی گئی تو انہوں نے “انا للہ و انا الیہ راجعون” پڑھا۔
انہیں 16 ستمبر 1931ء کو سرعام پھانسی دے دی گئی کیونکہ اطالوی عدالت کا حکم تھا کہ عمر مختار کو پیروکاروں کے سامنے سزائے موت دی جائے۔
آج کل ان کی شکل لیبیا کے 10 دینار کے نوٹ پر چھپی ہوئی ہے
جس شاں سے کوئی مقتل میں گیا ، وہ شان سلامت رہتی ہے
اس جاں کی تو کوئی بات نہیں ، یہ جان تو آنی جانی ہے۔۔۔۔!