Apr 262012
 

بسم الله الرحمن الرحيم
بروز بدھ رات 11 بجے ہم دو شخص مدينہ منورہ سے نکلے مدائن صالح جانے کي نيت سے ، مدائن صالح وہ جگہ ہے جہاں قوم ثمود رہتي تھي ، جن پر الله پاک کا عذاب نازل ہوا تھا ، تفصيل کے ساتھ ان شاء الله قصہ ذکر کروں گا آگے ،
مدائن صالح کا راستہ مدينہ منورہ سے تبوک کي طرف کا ہے ، راستے ميں خيبر سے گزرنا پڑتا ہے ، رات کے 1 اور 2 کے قريب ہم خيبر پہنچے وہاں آرام کيا صبح 8 بجے وہاں سے نکلے 10 اور 11 کے قريب ہم العلا پہنچے ،العلا شہر کا نام ہے اور اس کے ساتھ مدائن صالح ہے ، انتظاميہ سے اجازت لينے کے بعد انہوں نے ہميں پورے علاقے کا ايک نقشہ ديا ، وادي قوم ثمود سے کوئي 30 – 40 کلو ميٹر پہلے سے ديکھنے والے کو اس عجيب شہر کا اندازہ ہو جاتا ہے ، پہاڑوں کے نقش سے
سبحان الله – الله پاک نے اس قوم کو اسي طاقت اور ہنر سے نوازا تھا جو کے آپ کو وہاں جائے بغير کبھي سمجھ آ ہي نہي سکتا ، قرآن کريم ميں اس قوم کے ہنر کے بارے ميں ذکر آ چکا ہے ، وادي سے پہلے بڑے بڑے پہاڑوں پے عجيب عجيب سي چيزيں بني ہيں، بعض تو ہماري ثقافت ميں جاني پہچاني ہيں ، ليکن اکثر ان کي اپني ثقافت کے تصويريں ہيں ، جيسے ہماري ثقافت ميں سے مثلا ، ہاتھي ، انسان کا چہرہ ، کشتي ، وغيرہ …….
100 – 100 ميٹر کے اونچے پہاڑوں پے نقش بنے ہيں، ہو سکتا ہے اس سے بھي زيادہ ہو ، واللہ اعلم.
وادي ميں داخل ہونے کے بعد آپ پہاڑوں کے تراشے ہووے گھر آساني سے ديکھ سکتے ہيں ، بلکہ ان گھروں ميں داخل بھي ہو سکتے ہيں ، ہم نے تقريبا 100 سے زيادہ کچھ گھر خود گنے ہيں ، باقاعده ان پے پہلے سے نمبر لکھے ہيں حکومت کي طرف سے ، 2 سے 3 گھنٹے ہم گاڑي سے اندر گھومتے رہے ليکن پھر بھي يہ عجيب سي وادي ختم نہي ہوئي ، تھک ہار کے ہم نکلے وہاں سے ، يہاں پے بعض گھر ايک دوسرے کے نزديک ہيں ، بعض پہاڑ کي دونوں طرف سے ہيں ، بعض آمنے سامنے ہيں ، اور اکثر کچھ کچھ دوري پے واقع ہيں ، اور بعض کے بارے ميں کہا جاتا ہے کے قبريں ہيں ، واللہ اعلم.
اور اکثر پہاڑوں پے بہت سے چيزيں بني ہيں ، بعض نقش کے بنے ہيں ، اور اکثر پورا پہاڑ تراشا ہوا ہے .

يہ سب ديکھتے يہ محسوس ہو رہا تھا مجھے جيسے قرآن کريم سے صرف 2 آيات ياد رہ گئي .

وَ مَا ظَلَمْن?هُمْ وَ ل?كِنْ ظَلَمُوْ?ا اَنْفُسَهُمْ فَمَا? اَغْنَتْ عَنْهُمْ ا?لِهَتُهُمُ الَّتِيْ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّ?هِ مِنْ شَيْءٍ لَّمَّا جَا?ءَ اَمْرُ رَبِّكَ1? وَ مَا زَادُوْهُمْ غَيْرَ تَتْبِيْبٍ

اور ہم نے ان لوگوں پر ظلم نہيں کيا بلکہ انہوں نے خود اپنے اوپر ظلم کيا? غرض جب تمہارے پروردگار کا حکم آپہنچا تو جن معبودوں کو وہ خدا کے سوا پکارا کرتے تھے وہ انکے کچھ بھي کام نہ آئے اور تباہ کرنے کے سوا ان کے حق ميں اور کچھ نہ کرسکے?

وَ كَذ?لِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَا? اَخَذَ الْقُر?ى وَ هِيَ ظَالِمَةٌ1? اِنَّ اَخْذَه?? اَلِيْمٌ شَدِيْدٌ

اور تمہارا پروردگار جب نافرمان بستيوں کو پکڑا کرتا ہے تو اسکي پکڑ اسي طرح کي ہوتي ہے? بيشک اس کي پکڑ دکھ دينے والي (اور) سخت ہے

اِنَّ فِيْ ذ?لِكَ لَا?يَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْا?خِرَةِ1? ذ?لِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ1? لَّهُ النَّاسُ وَ ذ?لِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ

ان (قصوں) ميں اس شخص کے لئے جو عذاب آخرت سے ڈرے عبرت ہے? يہ وہ دن ہوگا جس ميں سب لوگ اکھٹے کئے جائيں گے اور يہي وہ دن ہوگا جس ميں سب (خدا کے روبرو) حاضر کئے جائيں گے?
سورہ ھود – 102- 103

قران کريم ميں قوم ثمود کا ذکر -
قرآن کريم ميں 25 مقامات سے زائد قوم ثمود کا ذکر ہے ميں سے سب سے پہلے کچھ ان لوگوں کے گھروں کے بارے ميں جو آيات ہيں وہ بيان کر کے پھر ان کا قصہ بيان کرتا ہوں .
1-
اور تکلف سے پہاڑوں ميں تراش تراش کر گھر بناتے ہو- الشعراء (149)
2-

اور وہ پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے تھے (کہ) امن (واطميان) سے رہيں گے الحجر (82)
3-

اور ثمود کے ساتھ (کيا کيا) جو وادي (قري) ميں پتھر تراشتے (اور گھر بناتے) تھے الفجر (9)
4-

اور ياد تو کرو جب اس نے تم قوم عاد کے بعد سردار بنايا? اور زمين پر آباد کيا کہ نرم زمين سے مٹي لے کر محل تعمير کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو? پس خدا کي نعمتوں کو ياد کرو? اور زمين ميں فساد نہ کرتے پھرو ? الاعراف (74)
_________________________________

ثمود کي قوم اور اس کا عبرت ناک انجام

علمائے نسب نے بيان کيا ہے کہ ثمود بن عامر بن ارم بن سام بن نوح ? يہ بھائي تھا جد بس بن عامر کا ? اسي طرح قبيلہ طسم يہ سب خالص عرب تھے ? حضرت ابراہيم خليل اللہ عليہ السلام سے پہلے ثمودي عاديوں کے بعد ہوئے ہيں ان کے شہر حجاز اور شام کے درميان وادي القري اور اس کے اردگرد مشہور ہيں ? سنہ 9ھ ميں تبوک جاتے ہوئے رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم ان کي اجاڑ بستيوں ميں سے گذرے تھے ? مسند احمد ميں ہے کہ جب حضور صلي اللہ عليہ وسلم تبوک کے ميدان ميں اترے لوگوں نے ثموديوں کے گھروں کے پاس ڈيرے ڈالے اور انہي کے کنوؤں کے پاني سے آٹے گوندھے ہانڈياں چڑھائيں تو آپ نے حکم ديا کہ سب ہانڈياں الٹ دي جائيں اور گندھے ہوئے آٹے اونٹوں کو کھلا ديئے جائيں ? پھر فرمايا يہاں سے کوچ کرو اور اس کنوئيں کے پاس ٹھہرو جس سے حضرت صالح کي اونٹني پاني پيتي تھي اور فرمايا آئندہ عذاب والي بستيوں ميں پڑاؤ نہ کيا کرو ? کہيں ايسا نہ ہو کہ اسي عذاب کے شکار تم بھي بن جاؤ ? ايک روايت ميں ہے کہ ان کي بستيوں سے روتے اور ڈرتے ہوئے گذرو کہ مبادا وہي عذاب تم پر آ جائيں جو ان پر آئے تھے? اور روايت ميں ہے کہ غزوہ تبوک ميں لوگ بہ عجلت ہجر کے لوگوں کے گھروں کي طرف لپکے ? آپ نے اسي وقت يہ آواز بلند کرنے کہا حديث(الصلو? جامعتہ) جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ نے فرمايا کہ ان لوگوں کے گھروں ميں کيوں گھسے جا رہے ہو جن پر غضب ال?ہي نازل ہوا ? راوي حديث ابو کبشہ فرماتے ہيں رسول اللہ کے ہاتھ ميں ايک نيزہ تھا ? ميں نے يہ سن کر عرض کي کہ يا رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم ہم تو صرف تعجب کے طور پر انہيں ديکھنے چلے گئے تھے آپ نے فرمايا ميں تمہيں اس سے بھي تعجب خيز چيز بتا رہا ہوں تم ميں سے ہي ايک شخص ہے جو تمہيں وہ چيز بتا رہا ہے جو گذر چکيں اور وہ خبريں دے رہا ہے جو تمہارے سامنے ہيں اور جو تمہارے بعد ہونے والي ہيں پس تم ٹھيک ٹھاک رہو اور سيدھے چلے جاؤ تمہيں عذاب کرتے ہوئے بھي اللہ تعالي? کو کوئي پرواہ نہيں ياد رکھو ايسے لوگ آئيں گے جو اپني جانوں سے کسي چيز کو دفع نہ کر سکيں گے ? حضرت ابو کبشہ کا نام عمر بن سعد ہے اور کہا گيا ہے کہ عامر بن سعد ہے واللہ اعلم ? ايک روايت ميں ہے کہ ہجر کي بستي کے پاس آتے ہي حضور صلي اللہ عليہ وسلم نے فرمايا معجزے نہ طلب کرو ديکھو قوم صالح نے معجزہ طلب کيا جو ظاہر ہوا يعني اونٹني جو اس راستے سے آتي تھي اور اس راستے سے جاتي تھي ليکن ان لوگوں نے اپنے رب کے حکم سے سرتاب کي اور اونٹني کي کوچيں کاٹ ديں ايک دن اونٹني ان کا پاني پيتي تھي اور ايک دن يہ سب اس کا دودھ پيتے تھے اس اونٹني کو مار ڈالنے پر ان پر ايک چيخ آئي اور يہ جتنے بھي تھے سب کے سب ڈھير ہوگئے ? بجز اس ايک شخص کے جو حرم شريف ميں تھا لوگوں نے پوچھا اس کا نام کيا تھا؟ فرمايا ابو غال يہ بھي جب حد حرم سے باہر آيا تو اسے بھي وہي عذاب ہوا? يہ حديث صحاح ستہ ميں تو نہيں ليکن ہے مسلم شريف کي شرط پر ? آيت کا مطلب يہ ہے کہ ثمودي قبيلے کي طرف سے ان کے بھائي حضرت صالح عليہ السلام کو نبي بنا کر بھيجا گيا ? تمام نبيوں کي طرح آپ نے بھي اپني امت کو سب سے پہلے توحيد ال?ہي سکھائي کہ فقط اس کي عبادت کريں اس کے سوا اور کوئي لائق عبادت نہيں ? اللہ کا فرمان ہے جتنے بھي رسول آئے سب کي طرف يہي وحي کي جاتي رہي کہ ميرے سوا کوئي معبود نہيں، صرف ميري ہي عبادت کرو اور ارشاد ہے ہم نے ہر امت ميں رسول بھيجے کہ اللہ ہي کي عبادت کرو اور اس کے سوا اوروں کي عبادت سے بچو ? حضرت صالح فرماتے ہيں لوگوں تمہارے پاس دليل ال?ہي آچکي جس ميں ميري سچائي ظاہر ہے ? ان لوگوں نے حضرت صالح سے يہ معجزہ طلب کيا تھا کہ ايک سنگلاخ چٹان جو ان کي بستي کے ايک کنارے پڑي تھي جس کا نام کاتبہ تھا اس سے آپ ايک اونٹني نکلايں جو گابھن ہو (دودھ دينے والي اونٹني جو دس ماہ کي حاملہ ہو) حضرت صالح نے ان سے فرمايا کہ اگر ايسا ہو جائے تو تم ايمان قبول کر لوگے؟ انہوں نے پختہ وعدے کئے اور مضبوط عہد و پيمان کئے ? حضرت صالح عليہ السلام نے نماز پڑھي دعا کي ان سب کے ديکھتے ہي چٹان نے ہلنا شروع کيا اور چٹخ گئي اس کے بيچ سے ايک اونٹني نمودار ہوئي ? اسے ديکھتے ہي ان کے سردار جندع بن عمرو نے تو اسلام قبول کر ليا اور اس کے ساتھيوں نے بھي ? باقي جو اور سردار تھے وہ ايمان لانے کيلئے تيار تھے مگر ذواب بن عمرو بن لبيد نے اور حباب نے جو بتوں کا مجاور تھا اور رباب بن ہمر بن جلمس وغيرہ نے انہيں روک ديا ? حضرت جندع کا بھتيجا شہاب نامي تھا يہ ثموديوں کا بڑا عالم فاضل اور شريف شخص تھا اس نے بھي ايمان لانے کا ارادہ کر ليا تھا ليکن انہي بدبختوں نے اسے بھي روکا جس پر ايک مومن ثمودي مہوش بن غنمہ نے کہا کہ آل عمرو نے شہاب کو دين حق کي دعوت دي قريب تھا کہ وہ مشرف باسلام ہو جائے اور اگر ہو جاتا تو اس کي عزت سيوا ہو جاتي مگر بد بختوں نے اسے روک ديا اور نيکي سے ہٹا کر بدي پر لگا ديا ? اس حاملہ اونٹني کو اس وقت بچہ ہوا ايک مدت تک دونوں ان ميں رہے ? ايک دن اونٹني ان کا پاني پيتي ? اس دن اس قدر دودھ ديتي کہ يہ لوگ اپنے سب برتن بھر ليتے جيسے قرآن ميں ہے آيت ( وَنَبِّئْهُمْ اَنَّ الْمَا?ءَ قِسْمَةٌ? بَيْنَهُمْ ? كُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ 28?) 54-القمر:28)، اور آيت ميں ہے ( قَالَ ه?ذِه? نَاقَةٌ لَّهَا شِرْبٌ وَّلَكُمْ شِرْبُ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ 155??) 26-الشعراء:155) يہ ہے اونٹني اس کے اور تمہارے پاني پينے کے دن تقسيم شدہ اور مقررہ ہيں ? يہ اونٹني ثموديوں کي بستي حجر کے اردگرد چرتي چگتي تھي ايک راہ جاتي دوسري راہ آتي يہ بہت ہي موٹي تازي اور ہيبت والي اونٹني تھي جس راہ سے گذرتي سب جانور ادھر ادھر ہو جاتے ? کچھ زمانہ گذرنے کے بعد ان اوباشوں نے ارادہ کيا کہ اس کو مار ڈاليں تاکہ ہر دن ان کے جانور برابر پاني پي سکيں ان اوباشوں کے ارادوں پر سب نے اتفاق کيا يہاں تک کہ عورتوں اور بچوں نے بھي ان کي ہاں ميں ہاں ملائي اور انہيں شہ دي کہ ہاں اس پاپ کو کاٹ دو ? اس اونٹني کو مار ڈالو ? چنانچہ قرآن کريم ميں ہے آيت ( فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا ? فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْ?بِهِمْ فَسَوّ?ىهَا 14??) 91-الشمس:14)، قوم صالح نے اپنے نبي کو جھٹلايا اور اونٹني کي کوچيں کاٹ کر اسے مار ڈالا تو ان کے پروردگار نے ان کے گناہوں کے بدلے ان پر ہلاکت نازل فرمائي اور ان سب کو يکساں کر ديا ? ايک اور آيت ميں ہے کہ ہم نے ثموديوں کو اونٹني دي جو ان کے لئے پوري سمجھ بوجھ کي چيز تھي ليکن انہوں نے اس پر ظلم کيا يہاں بھي فرمايا کہ انہوں نے اس اونٹني کو مار ڈالا ? پس اس فعل کي اسناد سارے ہي قبيلے کي طرف ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ چھوٹے بڑے سب اس امر پر متفق تھے? امام ابن جرير وغيرہ کا فرمان ہے کہ اس کے قتل کي وجہ يہ ہوئي کہ عنيزہ بنت عنم بن مجلز جو ايک بڑھيا کافرہ تھي اور حضرت صالح سے بڑي دشمني رکھتي تھي اس کي لڑکياں بہت خوبصورت تھيں اور تھي بھي يہ عورت مالدار ? اس کے خاوند کا نام ذواب بن عمرو تھا جو ثموديوں کا ايک سردار تھا يہ بھي کافر تھا ? اسي طرح ايک اور عورت تھي جس کا نام صدقہ بنت محيا بن زہير بن مختار تھا ? يہ بھي حسن کے علاوہ مال اور حسب نسب ميں بڑھي ہوئي تھي اس کے خاوند مسلمان ہوگئے تھے رضي اللہ تعالي? عنہ ? اس سرکش عورت نے ان کو چھوڑ ديا ? اب يہ دونوں عورتيں لوگوں کو اکساتي تھيں کہ کوئي آمادہ ہو جائے اور حضرت صالح عليہ السلام کي اونٹني کو قتل کر دے، صدقہ نامي عورت نے ايک شخص حباب کو بلايا اور اس سے کہا کہ ميں تيرے گھر آ جاؤں گي اگر تو اس اونٹني کو قتل کر دے ليکن اس نے انکار کر ديا ، اس پر اس نے مصدع بن مہرج بن محيا کو بلايا جو اس کے چچا کا لڑکا تھا اور اسے بھي اسي بات پر آمادہ کيا ? يہ خبيث اس کے حسن و جمال کا مفتوں تھا اس برائي پر آمادہ ہو گيا ? ادھر عنيزہ نے قدار بن سالف بن جذع کو بلا کر اس سے کہا کہ ميري ان خوبصورت نوجوان لڑکيوں ميں سے جسے تو پسند کرے اسے ميں تجھے دے دو گي اسي شرط پر کہ تو اس اونٹني کي کوچيں کاٹ ڈال ? يہ خبيث بھي آمادہ ہو گيا يہ تھا بھي زنا کاري کا بچہ ، سالف کي اولاد ميں نہ تھا، جيسان نامي ايک شخص سے اس کي بدکار ماں نے زنا کاري کي تھي اسي سے يہ پيدا ہوا تھا اب دونوں چلے اور اہل ثمود اور دوسرے شريروں کو بھي اس پر آمادہ کيا چنانچہ سات شخص اور بھي اس پر آمادہ ہوگئے اور يہ نو فسادي شخص اس بد ارادے پر تل گئے جيسے قران کريم ميں ہے آيت ( وَكَانَ فِي الْمَدِيْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ يُّفْسِدُوْنَ فِي الْاَرْضِ وَلَا يُصْلِحُوْنَ 48?) 27-النمل:48) اس شہر ميں نو شخص تھے جن ميں اصلاح کا مادہ ہي نہ تھا سراسر فسادي ہي تھے ? چونکہ يہ لوگ قوم کے سردار تھے ان کے کہنے سننے سے تمام کفار بھي اس پر راضي ہوگئے اور اونٹني کے واپس آنے کا راستے ميں يہ دونوں شرير اپني اپني کمين گاہوں ميں بيٹھ گئے جب اونٹني نکلي تو پہلے مصدع نے اسے تير مارا جو اس کي ران کي ہڈي ميں پيوت ہو گيا اسي وقت عنيزہ نے اپني خوبصورت لڑکي کو کھلے منہ قدار کے پاس بھيجا اس نے کہا قدار کيا ديکھتے ہو اٹھو اور اس کا کام تمام کر دو ? يہ اس کا منہ ديکھتے ہي دوڑا اور اس کے دونوں پچھلے پاؤں کاٹ ديئے اونٹني چکرا کر گري اور ايک آواز نکلالي جس سے اس کا بچہ ہوشيار ہو گيا اور اس راستے کو چھوڑ کر پہاڑي پر چلا گيا يہاں قدار نے اونٹني کا گلا کاٹ ديا اور وہ مر گئي اس کا بچہ پہاڑ کي چوٹي پر چڑھ گيا اور تين مربتہ بلبلايا ? حسن بصري فرماتے ہيں اس نے اللہ کے سامنے اپني ماں کے قتل کي فرياد کي پھر جس چٹان سے نکلا تھا اسي ميں سما گيا ? يہ روايت بھي ہے کہ اسے بھي اس کي ماں کے ساتھ ہي ذبح کر ديا گيا تھا ? واللہ اعلم? حضرت صالح عليہ السلام کو جب يہ خبر پہنچي تو آپ گھبرائے ہوئے موقعہ پر پہنچے ديکھا کہ اونٹني بےجان پڑي ہے آپ کي آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور فرمايا بس اب تين دن ميں تم ہلاک کر ديئے جاؤ گے، ہوا بھي يہي ? بدھ کے دن ان لوگوں نے اونٹني کو قتل کيا تھا اور چونکہ کوئي عذاب نہ آيا اس لئے اترا گئے اور ان مفسدوں نے ارادہ کر ليا کہ آج شام کو صالح کو بھي مار ڈالو اگر واقعي ہم ہلاک ہونے والے ہي ہيں تو پھر يہ کيوں بچا رہے؟ اور اگر ہم پر عذاب نہيں آتا تو بھي آؤ روز روز کے اس جھنجھٹ سے پاک ہو جائيں ? چنانچہ قرآن کريم کا بيان ہے کہ ان لوگوں نے مل کر مشورہ کيا اور پھر قسميں کھا کر اقرار کيا کہ رات کو صالح کے گھر پر چھاپہ مارو اور اسے اور اس کے گھرانے کو تہ تيغ کرو اور صاف انکار کر دو کہ ہميں کيا خبر کہ کس نے مارا ؟ اللہ تعالي? فرماتے ہے ان کے اس مکر کے مقابل ہم نے بھي مکر کيا اور يہ ہمارے مکر سے بالکل بےخبر رہے اب انجام ديکھ لو کہ کيا ہوا؟ رات کو يہ اپني بد نيتي سے حضرت صالح کے گھر کي طرف چلے آپ کا گھر پہاڑي کي بلندي پر تھا ابھي يہ اوپر چڑھ ہي رہے تھے جو اوپر سے ايک چٹان پتھر کي لڑھکتي ہوئي آئي اور سب کو ہي پيس ڈالا ? ان کا تو يہ حشر ہوا ادھر جمعرات کے دن تمام ثموديوں کے چہرے زرد پڑ گئے جمعہ کے دن ان کے چہرے آگ جيسے سرخ ہوگئے اور ہفتے کے دن جو مہلت کا آخري دن تھا ان کے منہ سياہ ہوگئے تين دن جب گذر گئے تو چوتھا دن اتوار صبح ہي صبح سورج کے روشن ہوتے ہي اوپر آسمان سے سخت کڑاکا ہوا جس کي ہولناک دہشت انگيز چنگھاڑنے ان کے کليجے پھاڑ ديئے ساتھ ہي نيچے سے زبردست زلزلہ آيا ايک ہي ساعت ميں ايک ساتھ ہي ان سب کا ڈھير ہو گيا ، مردوں سے مکانات ، بازار، گلي ، کوچے بھر گئے? مرد، عورت ، بچے ، بوڑھے اول سے آخر تک سارے کے سارے تباہ ہوگئے شان رب ديکھئے کہ اس واقعہ کي خبر دنيا کو پہنچانے کے لئے ايک کافرہ عورت بچا دي گئي ، يہ بھي بڑي خبيثہ تھي حضرت صالح عليہ السلام کي عداوت کي آگ سے بھري ہوئي تھي اسکي دونوں ٹانگيں نہيں تھيں ليکن ادھر عذاب آيا ادھر اس کے پاؤں کھل گئے اپني بستي سے سرپٹ بھاگي اور تيز دوڑتي ہوئي دوسرے شہر ميں پہنچي اور وہاں جا کر ان سب کے سامنے سارا واقعہ بيان کر ہي چکنے کے بعد ان سے پاني مانگا ? ابھي پوري پياس بھي نہ بجھي تھي کہ عذاب ال?ہي آ پڑا اور وہيں ڈھير ہو کر رہ گئي ? ہاں ابو دغال نامي ايک شخص اور بچ گيا تھا يہ يہاں نہ تھا حرم کي پاک زمين ميں تھا ليکن کچھ دنوں کے بعد جب يہ اپنے کسي کام کي غرض سے حد حرم سے باہر آيا اسي وقت آسمان سے پتھر آيا اور اسے بھي جہنم واصل کيا ثموديوں ميں سے سوائے حضرت صالح اور انکے مومن صحابہ کے اور کوئي بھي نہ بچا ، ابو رغال کا واقعہ اس سے پہلے حديث سے بيان ہو چکا ہے قبيلہ ثقيف جو طائف ميں ہے مذکور ہے کہ يہ اسي کي نسل سے ہيں ? عبدالرزاق ميں ہے کہ اس کي قبر کے پاس سے رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم جب گذرے تو فرمايا جانتے ہو يہ کس کي قبر ہے؟ لوگوں نے جواب ديا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زيادہ علم ہے ? آپ نے فرمايا يہ ابو دغال کي قبر ہے ? يہ ايک ثمودي شخص تھا اپني قوم کے عذاب کے وقت يہ حرم ميں تھا اس وجہ سے عذاب ال?ہي سے بچ رہا ليکن حرم شريف سے نکلا تو اسي وقت اپني قوم کے عذاب سے يہ بھي ہلاک ہوا اور يہيں دفن کيا گيا اور اس کے ساتھ اس کي سونے کي لکڑي بھي دفنا دي گئي ? چنانچہ لوگوں نے اس گڑھے کو کھود کر اس ميں سے وہ لکڑي نکال لي اور حديث ميں ہے کہ آپ نے فرمايا تھا ثقيف قبيلہ اسي کي اولاد ہے ? ايک مرسل حديث ميں بھي يہ ذکر موجود ہے ، يہ بھي ہے کہ آپ نے فرمايا تھا اس کے ساتھ سونے کي شاخ دفن کر دي گئي تھي يہي نشان اس کي قبر کا ہے اگر تم اسے کھودو تو وہ شاخ ضرور نکل آئے گي چنانچہ بعض لوگوں نے اسے کھودا اور وہ شاخ نکال لي ? ابو داؤد ميں بھي يہ روايت ہے اور حسن عزيز ہے ليکن ميں کہتا ہوں اس حديث کے وصل کا صرف ايک طريقہ بحير بن ابي بحير کا ہے اور يہ صرف اسي حديث کے ساتھ معروف ہے اور بقول حضرت امام يحيي? بن معين سوائے اسماعيل بن ابي اميہ کے اسے اس سے اور کسي نے روايت نہيں کيا احتمال ہے کہ کہيں اس حديث کے مرفوع کرنے ميں خطاء نہ ہو يہ عبداللہ بن عمرو ہي کا قول ہو اور پھر اس صورت ميں يہ بھي ممکنات سے ہے کہ انہوں نے اسے ان دو دفتروں سے لے ليا ہو جو انہيں جنگ يرموک ميں ملے تھے ? ميرے استاد شيخ ابو الحجاج اس روايت کو پہلے تو حسن عزيز کہتے تھے ليکن جب ميں نے ان کے سامنے يہ حجت پيش کي تو آپ نے فرمايا بيشک ان امور کا اس ميں احتمال ہے ? واللہ اعلم ?

* اقتباس ذکر ثمود – تاريخ ابن کثير -البدايہ والنہايہ ، تفسير ابن کثير .
تحرير و ترتيب و تصوير- آپ کي دعا کا طلبگار – زبير رياض

 

Incoming search terms:

 Posted by at 4:01 am