نمکین غزل
میں شکار ہوں کسی اور کا، مجھے مارتا کوئی اور ہے
مجھے جس نے بکری بنا دیا وہ تو بھڑیا کوئی اور ہے
کئی سردیاں بھی گزر گئیں، میں تو اس کے کام نہ آ سکا
میں لحاف ہوں کسی اور کا، مجھے اوڑھتا کوئی اور ہے
مجھے چکروں میں پھنسا دیا، مجھے عشق نے تو رلا دیا
میں تو مانگ تھی کسی اور کی، مجھے مانگتا کوئی اور ہے
میں ٹنگا رہا تھا منڈیر پر کہ کبھی تو آئے گی صحن میں
میں تھا منتظر کسی اور کا، مجھے گھورتا کوئی اور ہے
سرِ بزم مجھ کو اُٹھا دیا، مجھے مار مار لٹا دیا
مجھے مارتا کوئی اور ہے، ولے ہانپتا کوئی اور ہے
مجھ اپنی بیوی پہ فخر ہے، مجھے اپنے سالے پر ناز ہے
نہیں دوش دونوں کا اسمیں کچھ، مجھے ڈانٹتا کوئی اور ہے
میں تو پھینٹ پھینٹ کے پھٹ گیا، میں پھٹا ہوا وہی تاش ہوں
مجھے کھیلتا کوئی اور ہے، مجھے پھینٹتا کوئی اور ہے
میرے رعب میں تو وہ آ گیا، میرے سامنے تو وہ جھک گیا
مجھے لات کھا کے ہوئی خبر، مجھے پیٹتا کوئی اور ہے
ہے عجب نظام زکٰوۃ کا، میرے ملک میں، میرے دیس میں
اسے کاٹتا کوئی اور ہے، اسے بانٹتا کوئی اور ہے
جو گرجتے ہوں وہ برستے ہوں، کبھی ایسا ہم نے سنا نہیں
یہاں بھونکتا کوئی اور ہے، یہاں کاٹتا کوئی اور ہے
عجب آدمی ہے یہ قاسمی، اسے بے قصور ہی جانیئے
یہ تو ڈاکیا ہے جنابِ من، اسے بھیجتا کوئی اور ہے