Jan 302012
میرے خوابوں کے جھروکوں کو سجانے والی
چار دن کی یہ رفاقت جو رفاقت بھی نہیں
میری اجڑی ہوئی نیندوں کے شبستانوں میں
پیار پر بس تو نہیں ھے میرا لیکن پھر بھی
تو کسی اور کے دامن کی کلی ھے لیکن
تیرے ہاتھوں کی حرارت تیرے سانسوں کی مہک
تیرا اندازِ کرم ایک حقیقت ھے مگر
کون جانے میرے امروز کا فردا کیا ھے
میری درماندہ جوانی کی تمناوں کے
Jan 242012
