Apr 072012
 

That’s one thing you’ll commonly hear after experiencing Earth Hour. One hour, that’s how long it took me to really appreciate electricity but at the same time resent it. From not being able to access my out-of-battery laptop so I can write this, to peeing in the dark (in the toilet I hope), Earth Hour was here to teach me that lesson the hard way. 60 minutes of boredom without a TV, radio, lights, a good read, and nothing but your- semi charged- smartphone will teach you just how much we need and use electricity whilst taking it for granted. Even my soda wasn’t that cold after disconnecting the fridge.


After an hour of whining and sulking, I realized how selfish I was. How dependant I was on electricity although a lot of people don’t have access to it (yes, in 2012, a lot of countries have power-cuts on a daily basis). How all my thoughts regarding that hour revolved around me and my wide-screen TV.
From France, to Australia, to even Egypt, a campaign to raise awareness about climate change and global warming took over 5000+ cities, 147 countries, leaving all these people power-less. That’s the beauty of it. Appreciating what we have before it becomes what we had (and by that, I’m not referring to electricity). With all our fancy gadgets, our “entertaining” lifestyles, and spoiled children, we are running through our resources like it’s a marathon for destroying Earth. I must warn you; this article is NOT about my one hour without Facebook, it’s NOT about my room-temperature coke, and it certainly is NOT about me bragging to you how I spent this Saturday. There’s more to it than that.
Earth Hour should be everyday; using energy- saving light bulbs, switching off all appliances before going to bed (but not the fridge though), and depending on day-light whenever possible is just a small token we have to pay for occupying this planet. Consider it an inevitable tax that you have to pay to ensure a better tomorrow for every being on this planet (this entails humans and pandas alike!).
Let’s be positive, let’s forget about us and remember the world, and let’s start taking steps towards a cleaner, safer environment rather than leaving it worn out for the following generations. If you haven’t participated in Earth Hour, that’s ok, everyday is Earth Hour!

Source: http://arabia.msn.com

Incoming search terms:

 Posted by at 7:55 pm
Mar 262012
 


کسی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان بنانا انتہائی غیر اسلامی فعل ہے، انتہائی درجے رزالت کا کام ہے۔ اسلام کی خدمت نہیں
 بلکہ اسلام کی توہین ہے۔ جو بھی ایسا کرے اسے واقعتا سزا ملنی چاہئے کہ وہ سلامتی والے دین کی غلط تشریح کر رہا ہے۔

میں یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں پسند کی شادی کا کوئی ایسا واقعہ جس میں لڑکی کے والدین کی سنی گئی ہو۔ میں سوچ رہا ہوں کوئی ایسی کہانی جس میں لڑکے یا اس کے خاندان کو لڑکی کے خاندان کی طرف سے دھمکیاں نہ ملی ہوں، میں کوئی ایسی خبر ڈھونڈ رہا ہوں جس میں کوئی لڑکی پسند کی شادی کے بعد خوشی سے والدین کے گھر قبول کر لی گئی ہو۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں غیرت کے نام پر قتل معمول ہو۔ جہاں پسند کی شادی پر خاندان کے خاندان مار دئیے جاتے ہوں، جہاں شک کی بنیاد ہر ماں بہن بیٹی کی جان لی جاتی ہو۔ وہاں مطالبہ کا جا رہا ہے کہ فریال شاہ کو والدین کے حوالے کیا جائے۔ محبت کی شادی کے لاکھوں واقعات میں سے سینکڑوں اخبارات کی زینت بنتے ہیں ۔ ایک طرح کا انداز لڑکی نابالغ ہے۔ لڑکی کو بہلا پھسلا کر گھر سے بھگا لے گئے، اغوا کیا گیا۔ تمام کہانیوں میں ایک بات مشترک ہوتی کہ لڑکی کے والدین ، خاندان والے لڑکے والوں کو دھمکیاں دے رہے، انہیں ڈرا رہے، ان پر مقدمات بنا رہے، اور پھر این جی اوز حرکت میں آتی ہیں۔ کیس لڑا جاتا ہے۔ لڑکی کو امان دی جاتی ہے۔ وہ سب کے سامنے آ کر کہتی ہے کہ میں عاقل بالغ ہوں میں نے اپنی مرضی سے شادی کی، اور اس کے بعد قصہ ختم، نہ باپ کی پگ کا خیال کیا جاتا ہے، نہ ماں کی سفید چادر کا۔ نہ خاندان کی عزت کا اور نہ ہی رشتے داروں کے وقار کا۔سارا میڈیا، تمام این جی اوز اور سبھی حقوق انسانی والے راگ الاپتے ہیں ، لڑکی کا بنیادی انسانی حق ہے کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکے۔ باقی رشتوں کی ، ان سے وابسطہ جذبات کی احساسات کی کوئی اہمیت نہیں۔۔

فرض کریں فریال شاہ ( سابقہ رنکل کماری) پیدائشی مسلمان ہوتی، اس کے والدین مسلمان ہوتے اور وہ اسی طرح پسند کی شادی کر لیتی تو صورت حال کیا ہوتی! اس کے والدین کو ظالم جابر نہ ٹھہرایا جا رہا ہوتا? یہ کہہ کر اس جوڑے کو حفاظت میں نہ رکھا گیا ہوتا ?کہ اس کے میکے والوں کی طرف سے جان کا خطرہ ہے۔ اسے ایک بہادر جرات مند خاتون ہونے کا اعزاز نہ مل چکا ہوتا? اس کے لئے ٹی وی چینلز پر کتنی آوازیں بلند نہ ہو چکیں ہوتی?
کسی غیر مسلم کو زبردستی مسلمان بنانا انتہائی غیر اسلامی فعل ہے، انتہائی درجے رزالت کا کام ہے۔ اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اسلام کی توہین ہے۔ جو بھی ایسا کرے اسے واقعتا سزا ملنی چاہئے کہ وہ سلامتی والے دین کی غلط تشریح کر رہا ہے۔ لیکن ایک ایسے معاشرے میں جہاں محبت کی شادی ، پسند کی وجہ سے گھر والوں سے ناطہ توڑنا اور والدین کی طرف سے بے جا سختی کی وجہ سے لڑکے لڑکیوں کا کورٹ میرج کرنا عام ہو۔ وہاں یہ شور مچانا کہ رنکل کماری کو صرف مسلمان بنانے کے لئے زبردستی اغوا کیا گیا سمجھ سے بالاتر ہے۔ کوئی زی شعور عقل سمجھ والا انسان زبردستی مذہب کی تبدیلی کو کار ثواب نہیں سمجھ سکتا۔

توپوں کا رخ نو مسلم فریال شاہ اس کے شوہر نوید شاہ کی طرف ہے۔ اللہ خیر تے بیڑے پار، ورنہ جس طرف انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں ہوں اسی طرف سب

 

========================

او ظالمو محبت کرنے والوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہو، دو معصوم  نظریں ملیں ہوں گی۔  چہرے کے خد و خال دل کو چیر گئے ہوں گے۔ شرمیلی ہنسی نے من مو لیا ہو گا۔ امنگیں جاگی ہوں گی، خواب دیکھے گئے ہوں گے۔ سپنے بن بن کر پروئے ہوں گے ان معصوموں نے۔ طالمو محبت کا کونسا مذہب ہوتا ہے۔ محبت کا کیا دین ہوتا ہے، محبت تو محبوب کا مزہب مانتی ہے محبوب ہی قبلہ کعبہ مسجد مندر، غریب رنکل کمہاری کو کیا پتا تھا کہ اس کی معصوم محبت کو ایسے بدخواہ ٹکریں گے۔ اس نے تو بس پیا سنگ جیون بتانے کا سوچ کر بابل کا آنگن چپکے سے الوداع کر دیا ہو گا۔

اس نے تو بس من کے میت کو اپنا سب کچھ مان کر دل جان ایمان قربان کر دیا ہو گا۔ ظالمو تمہیں آہ لگے گی ان معصوموں کی کیسے اجلے چہرے ، کیسی محبت کا نور اور کسی ملن کی شانتی نظر آتی ہے ان  راہ محبت کے مسافروں کے چمکتی جبینوں پر۔ کیسا سکون ہے رنکل کماری کے لہجے میں فریال شاہ بن کر بھی جیسے وہ اس احساس میں ڈوبی ہوئی ہو کہ میرا سجنا میرے دل کا چین میرے ساتھ ساتھ ہے۔ سماج تیرا ککھ نہ رہوے۔۔ پیار والے تو کہتے ہیں ” نہ میں مومن نہ میں کافر” اور تمہارے پیٹ میں مروڑ اٹھنے لگتے ہیں، ارے اگر کسی فلمی سین کی طرح کماری کا راج کمار اسے چپکے سے بھگا لے گیا تو تمہیں کیا تکلیف ہوئی۔

وہ مسجد کو جائیں یا مندر میں جائیں تم کیوں بڑبڑاتے ہو۔ اب رنکل نے خالص مشرقی دوشیزہ کی طرح اپنے پیا کے قدموں میں سب کچھ قربان کر دیا تو ظالمو تمہیں کیوں برا لگا۔ کسی داستان کی شہزادی کی طرح رنکل کماری نے اپنا تن من نچھاور کر دیا نوید شاہ پر، تو خدا سے بے خوفے سماج والو تمہارا چہرہ کیوں لال بھبوکا ہو گیا۔ محبت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ محبت کا کوئی دین نہیں، محبت خود ایمان ہے پیار کرنے والوں کا۔ تم دونوں کو جدا کرنا چاہتے ہو۔  

خدا نے فرعون کے گھر موسٌی کی پرورش کی تھی۔ کسی مولوی کے دل میں ان کی محبت نے نرمی پیدا کر دی تو حیرانی کیوں ہے۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہئے کہ برسوں کا بگڑا مْلا محبت کی تان پر جھوم اٹھا ہے۔  سوچو جو ملا لٹھ اٹھا کر محبت کرنے والوں کے پیچھے بھاگ کھڑا ہوتا تھا ۔ آج وہی اہل محبت کی امان کے لئے سماج سے لڑ رہا ہے۔ محبت جیت گئی ملا ہار گیا۔ تم بھی اپنی ہار مان لو ظالمو۔ اسی ہار میں جیت ہے محبت کی۔ رنکل کماری ہو یا فریال شاہ نوید شاہ کو دل کے راج سنگھاسن پر بٹھا چکی۔ تم بھی اپنا سر تسلیم  خم کر لو۔۔محبت والوں کو مت ستائو۔ ان کی آہ سیدھی اوپر جاتی ہے۔،


Incoming search terms:

 Posted by at 8:51 am