Apr 182012
 

دوستو آئیں مل کر اس فحاشی کے خلاف کوئی عملی اقدام کریں… ایک چھوٹا سا ہی سہی… پانی کی پہلی بوند ہی ڈال دیں.
آئیے ہم سب مل کر اس کے خلاف ایک آواز اٹھائیں. سب سے پہلے ہم اس فحاشی کے خلاف پیمرا کو شکایات کرتے ہیں.
کچھ بھائی شائد یہ سوال کریں کہ اس سے کیا ہو گا.

جب نمرودی سپاہی حضرت ابراہیم خلیل الله کو اٹھا کر آگ میں پھینک دیتے ہیں تو اچانک فضا میں ایک بلبل پھڑپھڑاتا ہوا آتا ہے. اس کی ننھی سی چون…چ میں پانی کی ایک بوند ہے…….آگ کے قریب آ کر ایک بلبل پانی کی اس بوند کو آگ پر پھینک دیتا ہے ….اور پانی لینے چلا جاتا ہے اور ایک قطرہ آب لا کر پھینک دیتا ہے.

بلبل بڑی پھرتی سے بار بار پانی لینے جاتا ہے اور آگ پر پھینکتا جاتا ہے… یہ صورت حال دیکھ اکر کسی نے بلبل سے کہا “او دیوانے! تیرے ایک قطرہ پانی سے یہ آگ بجھ جائے گی؟ تیری ایک بوند آگ پر گرنے سے پہلے ہی راستے میں پانی کی حدت سے خشک ہو جاتی ہے. ”
مجھے اسے سے کوئی غرض نہی کہ میرے ایک قطرہ پانی سے آگ اپر کیا اثر پڑتا ہے. مجھے تو “حق وفا” ادا کرنا ہے.. ہانپتے ہوے بلبل نے کڑک کر جواب دیا…

میں بھی آپ سے صرف حق وفا ادا کرنے کی درخوست کر رہا ہوں. اور کچھ ہو یا ناں ہو ہمارا نام آگ بجھانے والوں میں شمار کیا جائے گا ناں کہ لگانے والوں میں.
سب لوگ پیمرا کو اس مسئلے کی شکایات کے لیے خطوط لکھیں، ای میل کریں. فون کریں…. ان شا الله جب ایک بڑی تعداد میں شکایات جایئں گی تو وہ اس پر غور کریں گے.

Incoming search terms:

 Posted by at 5:57 am
Apr 082012
 
beware of net crime

beware of net crime

ویب سائٹس پر سائبر جرائم کی خبریں روزانہ سننے میں آتی ہیں، ہر ملک میں ایسے جرائم کے خاتمے کے لئے قانون بنائے گئے ہیں ، حکومت پاکستان نے سائبر سکیورٹی کے اہم مسئلے پر قابو پانے کے لئے کچھ قابلِ تحسین اقدام کئے ہیں جن میں باقاعدہ سائبر کرائم سے متعلق قانون سازی بھی شامل ہے۔ سائبر کرائم سے متعلق پاکستانی ادارہ ایف آئی اے کے ذیلی ادارے این آر تھری سی (نیشنل ریسپونس سنٹر فور سائبر کرائم) کی ویب سائٹ National Response Centre For Cyber Crimes پر نہ صرف مفید معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں بلکہ آن لائن شکایات بھی درج کی جاسکتی ہیں۔ این آر تھری سی کے علاوہ چند دیگر غیر سرکاری ادارے بھی سائبر کرائمز کی روک تھام کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔

انٹرنیٹ پر اگر کوئی آپ کو بلا وجہ پریشان کرے تو عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی آپ کی مدد کرنے والا نہیں ہے ، مدد دستیاب ہے ، اگر آپ بھی کسی ایسے غلیظ انسان کی حرکتوں کا شکار ہیں جو آپ کو بلیک میل کر رہا ہو تو خاموش نہ بیٹھئے بلکہ اسکی report کیجئے تا کہ آپ کو ناحق ستانے والے کو سزا دی جا سکے !

آپ اگر نو جوان ہیں تو سب سے پہلے اپنے والدین یا بہت قابل بھروسہ رشتے دار یا دوست کو بتائیں جو متعلقہ عملے سے رابطہ کریں اور پھر ایک درخواست میں پوری تفصیل دیجئے کہ آپ کو کیسے تنگ کیا گیا ( سب کاروائی یعنی میسجز ، پوسٹس ، چیٹ ، فون نمبر ، ای میلز ، ای میل ایڈریس ، دھمکیاں ، بلیک میلنگ وغیرہ سب محفوظ رکھئے ، کوئی چیز بھی ڈیلیٹ نہ کیجئے ، یہ ثبوت آپ کے کام آئے گا !)

آج کل پولیس کے پاس جدید سوفٹ وئیر موجود ہیں جن کے ذریعے مجرم کی ایک ایک حرکت کو ٹریس کیا جا سکتا ہے اور اگر مجرم اپنی حرکات ڈیلیٹ کر بھی دے تو سب واپس discover کیا جا سکتا ہے !

اور اگر آپ کو اس بات کا ڈر ہے کہ والدین کی ڈانٹ پڑے گی تو سوچئے کہ والدین کی ڈانٹ اس نا حق پریشانی سے بہتر ہے جو کسی idiot کی وجہ سے آپ کو اٹھانی پڑ رہی ہے اور ایسے انسان کو رپورٹ کر کے آپ اور لوگوں کا بھی بھلا کر دیں گے جو آپ کی طرح کسی ایسے ہی جرم کا شکار ہو کر پریشان ہیں !

National Response Centre For Cyber Crimes
www.nr3c.gov.pk

 Posted by at 6:13 am